Maloomat - Allama Iqbal History In Urdu - Urdu Poetry


Allama Iqbal History In Urdu

علاّمہ محمد اقبال

Allama Iqbal History In Urdu - Urdu Poetry

علاّمہ محمد اقبال:

آج کا موضوع  ہمارا اپنے لوگوں کو اپنے قومی شاعرعلاّمہ محمد اقبال کےبا رے میں کچھ  بنیادی معلومات دینا ہے۔ ہم سب نے اِن کو اچھی طرح جانتے ہیں کیوں کے یہ پاکستان کے قومی شاعر  ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم سب صرف اتنا ہی جانتے ہیں کے یہ پاکستان کے قومی شاعر  ہیں۔ اس سے زیادہ ہم ان کے بارے میں نہیں جانتے ۔ تو  شروع کرتے ہیں ۔
یہ بتانا لازمی ہے کے ہم آپ کو شاعرعلاّمہ محمد اقبال کےبا رے میں کچھ  بنیادی معلومات دینے والے ہیں نا کے اُن کی پوری تاریخ ۔ لیکن اگر آپ ان کے بارے میں مزید جاننا چاہیں تو آپ  اس لینک کو کلک کر کے جان سکتے ہیں) (Wikipedia

تعارف:

علاّمہ محمد اقبال کو شاعرِمشرق کہا جاتا ہے، علاّمہ محمد اقبال 9 November 1877))  کو سیالکوٹ  میں پیدا ہوئے اور ان کی وفات(21 April 1938) لاھور میں ہوئی۔
علاّمہ محمد اقبال ایسے بلند اقبال ثابت ہوئے  کہ ان کے چراغ سے بہت سے چراغ روشن ہوئے۔ان کی فکر نے کئی دانشوروں  کو زبان دی۔ اور ان کے انداز کو شاعروں کی ایک بڑی تعداد نے اختیار کیا۔

مذہب سے محبت:

علاّمہ محمد اقبال کو امنے مذہب یعنی اسلام سے بہت محبت تھی اور وہ اپنے خدا یعنی اﷲ ربّ الامین سے بے پناہ محبت تھی ۔ ان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ دینِ اسلام کی تعلیمات  پر تھا ۔ وہ شاعری سے مسلمان کا جزبہ  بڑھاتے نظر ائے ہیں ۔ وہ مذہب  پسند  انسان تھے ۔ ان کی شاعری آپنے اندر بہت کشش رکھتی ہے۔

اندازِ بیان:

علاّمہ محمد اقبال کا سارا شعری سرمایہ ان کے خوبصورت انداز بیان کی دلیل ہے۔انہوں نے نظم کے لئے بھی غزل کا نرم، شیریں اور حسین لہجہ اختیار کیا۔ان کا کمال ہنر یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے روایتی بتوں کو پاش پاش کر دیا۔ شعر میں زندگی اور عمل کی حرارت شامل کی مگر شعریت کو کہیں  بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا کلام ادبِ عالیہ  میں شمارہوتا ہے۔

مردِمومن:

 علاّمہ محمد اقبال نے فلسفہ خودی کو  مجسم  کیا تو ایک مثالی "مردِمومن " وجود میں آیا۔ علاّمہ محمد اقبال کا  مردِ مومن زمین پر خدا کا نائب ایک آئب ایک آئیڈیل شخصیت کا حامل اور مثالی انسان ہے۔جرمن دانشورنطشے نے بھی اسی طرح سے ایک " سپر مین کا تصور پیش کیاتھا۔ لیکن اس کا سپرمین کسی اخلاقی ضابطہ لا پا بند نہیں تھا جبکہ اقبال اپنے مردِمومن کو رضائے الٰہی کا پابند کرتے ہیں۔

شاہین کا  جہاں :

اقبال نے استعارے کے طور پر پرندوں میں جس کو منتخب کیا وہ شاہین ہے۔ شاہین دراصل ان کے مردِمومن کا متبادل ہے اور ان کی تعلیما کا عکّاس۔ ذہنی طور پر کسی شکست خوردہ وقم کی بیداری کے لئے شاید  اس سے بہتر علامت ممکن نہیں۔اقبال کو شاہین پسند ہے۔اس لئے کہ وہ مردار نہیں کھاتا۔ خوددار اور غیرت مند ہوتا ہے۔ بلند یاں اس کی فطرت میں ہیں اور مسلسل حرکت اس کی زندگی۔

اُمید ہے کہ ہم آپ کو اپنے قومی شاعرعلاّمہ محمد اقبال کےبا رے میں کچھ  بنیادی معلومات دینے  میں کامیاب ہوے ہونگے یعنی آپ کو ہماری دی گئی معلومات سے کچھ سکھنے کو ملا ہوگا۔
اگر آپ اس طرح کی معلومات اور اردو زبان کی شاعری دکھنا چھتے ہیں تو نیچے دیئے گئے بٹن کو دبا ئیں ۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                      
                                                                                      Click Here                                                                                       

Post a Comment

0 Comments